ہبلی:4/ نومبر (ایس اؤنیوز) کل اتوار 5/نومبر کو چلو ہبلی ریلی کے ساتھ لنگایت کا عظیم الشان جلسہ منعقد کیا گیا ہے جس میں لنگایت دھرم کی چھوٹی چھوٹی 99 ذاتوں کو متحد کیا جائےگا اور حکومت سے مانگ کی جائے گی کہ لنگایت کو الگ دھرم کے طور پر قبول کیا جائے۔ اس تعلق سے ہبلی میں لنگایت دھرم سماویش کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے بعد اخبارنویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے ریاستی کابینہ وزیر اور لنگایت دھرم کی علاحدہ مانگ کو لے کر جاری جدوجہد کے اہم لیڈر ایم بی پاٹل نے کہا کہ لنگایت دھرم کو جب تک دستور ی طورپر مان نہیں لیا جاتاتب تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔ اس سلسلے میں ہم نے لنگایت کو الگ دھرم تصدیق کرنےو الی درخواست ریاستی وزیرا علیٰ سدرامیا کو سونپی ہے ۔ مناسب فیصلہ لینے کا وزیرا علیٰ کو اختیار ہے ۔ اور ہمیں امید بھی ہے کہ وزیرا علیٰ قانون کے مطابق غیر جانبدارانہ فیصلہ لیں گے آگے کہا کہ ہم میں سے کوئی بھی اس معاملے میں مداخلت نہیں کرے گا۔
ایم بی پاٹل نے کہاکہ لنگایت دھرم کی مانگ لے کر چل رہی جدوجہد میں ویر شیو مہا سبھا کے ذمہ داران کو بھی ساتھ دینے کی اپیل کی گئی ہے ۔ لنگایت دھرم کی 99 چھوٹی ذاتیں ہیں ان میں سے ایک ویر شیو بھی ہے۔ ویر شیو ا کے پاس الگ سے دھرم بنانے کے لئے تاریخی ، نظریاتی اور بنیادی دستاویزات نہیں ہیں۔ اسی لئے ہم نے انہیں لنگایت دھرم کے ساتھ رہنے کہاہے۔ یہ تو طئے ہے کہ بنگلورو میں دسمبر کے مہینےمیں بہت بڑے پیمانے پر لنگایت دھرم کا اجلاس ہونے جارہاہے۔ انتخابات کے بعد ڈاونگیرہ، میسور، باگلکوٹ ، حیدرآباد میں بھی بڑے بڑے اجلاس منعقد کئے جائیں گے۔
ہبلی میں منعقد ہونے والے لنگایت دھرم کے عظیم الشان اجلاس کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لئے لنگایت جدوجہد کے اہم لیڈر اور وزیر ونئے کلکرنی ، ایم بی پاٹل ، ودھان پریشد کے ممبر بسوراج ہورٹی اور مذہبی پیشوا بسو جئے مرتنجیا سوامی ، نجگونانند سوامی جی ، ناگنور سوامی جی وغیرہ نے آج سنیچر کو نہر واسپورٹس میدان کا دورہ کرتےہوئے معائنہ کیا۔ لنگایت کے تمام ذاتوں کے تعاون سے یہ اجلاس منعقد کیا جارہاہے ۔